اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا 46واں سالانہ مرکزی کربلا محور انسانیت کنونشن بھٹ شاہ میں شروع ہوا،جس میں سندھ بھر سے پہلے روز سے 400 طلبہ نے شرکت کی ہے، کنونشن میں ملک کے نامور اور جید علماۓ کرام خطاب کرینگے، کنونشن کی دعوت مختلف برادر تنظیوں جسے مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علما کاؤنسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان، اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان، سمیت دیگر اداروں کے نمائنوں نے شرکت کی، کنونشن میں اضلاع، ڈویزن اور مرکز کی سالانہ کارکردگی رپورٹس، اور نئے سال کے مرکزی میر کارواں کا انتخاب ہوگا، کنونشن کی پہلی نشت سے خطاب کرتے ہوۓ تنظیم کے مرکزی صدر پرویز علی لاڑک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے ملک بھر میں دشتگردی ہورہی ہے ، سیہون سندھ میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکے نیشنل ایکشن پلان اور سیکورٹی فورسز کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے، حکومت کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کے معاملہ میں مصلحتوں کا شکار ہے، دہشتگردوں کیخلاف اہم فیصلوں کا وقت آگیا ہے، دشتگردوں کے خلاف کروائی کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا، حکومت کی غفلت اور فاش غلطیوں کی وجہ سے دہشتگرد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپاہ صحابہ ،داعش، القاعدہ اور طالبان جیسی تنظیمیں مسلمانوں کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں، مسلمانوں پر کفر کے فتویٰ لگا کر قتل و غارت کرنیوالے تکفیری گروہ اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں، مذہب کو نفرت کا نہیں محبت کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے، اس کے لیے کربلا مظلومین جہاں کی آواز بن گئی ہے تمام اقوام کربلا کے فلسفے سے استفادہ کرکے ترقی کی راہ ہموار کر رہی ہیں، کنونشن کو خطاب کرتے ہوۓ سید حسین موسوی نے کہا کہ کنونشن ہماری زندگی میں تربیت، نظم و ضبط سکھاتا ہے، ہمیں ٹائم ٹیبل کے مطابق بیدار ہونا ، نماز، دعائیں، اور دیگر نشستیں بہت مفید اور مسلسل سننے سے علم میں اضافہ ہوگا، شرکاء دروس سے استفادہ کریں تاکہ وہ اپنے معاشرے میں مبلغ دین کا کردار ادا کر سکیں۔کنونشن میں کیریئر کونسلنگ، توضح المسائل کے لیے علیحدہ اسٹال لگائیں گئے ہیں جس سے نوجوان روبرو بیٹھ کر اپنا مسائل پر رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔
کنونشن سے سید امتیاز حسین بخاری نے بھی خطاب کیا.دوسرے روز کی نشت سے خطاب کرتے ہوے علامہ سید عروج زیدی نے کہا کے انقلاب اسلامی کربلا کی نظریے سے ہی حاصل ہوتا ہے، تمام امتیں کربلا کو اپنی درسگاہ بنا چکی ہیں،نیلسن منڈیلا، مہاتما گاندھی ،علامہ محمد اقبال سمیت تمام سیاسی رہنماؤں نے بھی کربلا کو اپنی سوچ کا مرکز بنایا ہے،ضرورت اس بات کی کربلا کی فکر لوگوں تک پہنچائی جائے تاکہ محکوم اقوام اس فکر سے شعوربلند کر سکیں۔
کنونشن میں کو خطاب کرتے ہوئے حجتہ السلام علامہ شیخ غلام محمد سلیم نے کہا کے امام حسین علیہ السلام کا قیام ظلم کے خلاف تھا، انسانیت کو سرخرو کرنا تھا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم درس کربلا سے مقصد حاصل کر کے معاشرے کی اصلاح کریں، درس کے اضلا ح کارکردگی رپورٹس پیش کی جارہی ہیں. کنونشن میں مختلف سرگرمیاں ہورہی ہیں، نماز باجماعت ، دعائوں کے پرنور اجتماعات بھی شامل ہیں جس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے، جب کے دعا کمیل کا پروگرام جمعرات کے روز مغربین پر کی گئی، جب کے کھانے پینے کے بھی بہتر انتظامات ہیں جس میں سکاؤٹس خدمات دے رہے ہیں۔














۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲